اتوار، 11 اکتوبر، 2026

آشیانہ

 



 آشیانہ

عظمی آپا ملازمت سے فراغت کے بعد مستقل کراچی آچکی تھیں ۔ اس  دوران  ان کے بھائی بہن کی جین زی  اولادیں  کافی  آگے بڑھ چکی تھیں ۔ یاسر اعلٰی تعلیم کے لیے جرمنی گیا ہوا تھا ۔ عرفان    بسلسلہ  ملازمت   اسلام آباد   میں مقیم ہوچکا تھا ۔ ہبہ اور ماہا اپنی تعلیم مکمل کرکے  آن لائن کام کر رہی تھیں ۔ صبا اور شارق آخری سمسٹر  میں مشغول تھے جبکہ جبران  انٹر کر چکا تھا ۔پرانی ملازمہ رضیہ بوا ضعیفی کے باعث  اپنے بچوں کے پاس گاؤں جاچکی تھیں  لہذا کھانا پکانا اب مکمل طور پر گھر کی خواتین کے ذمے تھا ۔

 عظمی آپا کا کمرہ  ہمیشہ سے گھر کی دوسری منزل میں تھا جہاں ان کے بھائی  عارف  اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔  چونکہ آج کل عرفان گھر نہیں تھا تو بجلی کی بچت کی خاطر وہ اسی کمرے میں رات گزرتی تھیں جہاں جبران  تھا کہ ایر کنڈیشن  ایک ہی کمرے میں چلے !  باقی صبح 11 بجے سے مغرب تک کا وقت وہ نیچے اپنی بہن اسماء کے ساتھ گزارتی تھیں ۔ ان کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا جس میں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا  تو لوگوں کو بھی  ان سے ملاقات میں آسانی رہتی ۔البتہ رات کا کھانا دونوں خاندان مل کر اوپر ہی کھاتے تھے ۔ کچھ  اسما  اپنی بیٹیوں کی مدد سے بنا لیتیں اور کچھ بھاوج  شہلا  اور بھتیجی ماہا تیار کرتیں ۔ لڑکیوں کی مدد  تو نری زحمت تھی ماسوائے کچھ نئے  زمانے کا کوئی پکوان ہو  یا کوئی میٹھا وغیرہ ۔ بہر حال ان کی تربیت کے لیے ضروری تھا کہ وہ چیزوں اور پکوان  کے حقیقی طور پر بننے والے وقت کا درست اندازہ سیکھ سکیں ورنہ  انٹر نیٹ اور یوٹیوب پر تو  چند منٹوں میں نبٹا دیا جاتا ہے ۔

 دسمبر میں یاسر کی آمد متوقع تھی  تو موقع کے لحاظ سے ماہا اور ہبہ کی شادی طے کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یاسر اور اسریٰ کا نکاح بھی منعقد کرنا تھا  تاکہ اسریٰ بھی ساتھ جرمنی جاسکے۔ اسریٰ کی والدہ سلمہ ،عظمی ٰ آپا کی خالہ زاد بہن اور اسماء کی بچپن  کی دوست تھیں ۔ ان ہی معاملات پر بات کرنے اس دن سلمہ آئیں تو  عظمیٰ آپا کے ساتھ وہیں لاؤنج میں محفل جم گئی۔  ہبہ چائے  بنا کر لے آئی۔ ماں کے کہنے پر  کچھ نمکو اور بسکٹ بھی نکال لیے۔

" ارے ایسا سوکھا ناشتہ! اب تو سمدھیانے کا معاملہ ہے ۔ فل پروٹوکول ملنا چاہیے   سلمہ کو  !کوئ کباب ، کچھ میٹھا ۔۔۔۔"  عظمیٰ آپا ہنس کر بولیں ۔ ان کی اس بات پر سلمہ اور اسماء سٹپٹا کر رہ  گئیں کہ انہوں نے تو ایساکوئ نیا تعلق محسوس  ہی نہیں کیا تھا ۔ وہ تو ایسے ہی معاملات چلا رہی تھیں ۔

"۔۔۔ارے نہیں آپا ! اس قسم کے تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ! اسما ء اور میں تو بچپن سے ایک دوسرے کے کھانے کپڑے آپس میں استعمال  کرتے رہے ہیں ۔۔۔۔"  سلمہ بول پڑیں

" ۔۔ہاں مگر رشتے کی خوبصورتی ہے کہ کچھ تو نیا سا نظر آئے ۔۔۔۔' '   انہوں نے سمجھانے کے انداز میں سلمہ اور اسما ء کو کچھ  نصیحتیں کیں جنہیں ان  دونوں کے ساتھ ساتھ ہبہ نے بھی غور سے سنا کیونکہ وہ اپنے چچا کے گھر بیاہ کر جارہی تھی  اور اسے بھی نئے رشتوں میں تعلقات کی  احسن تبدیلی کے لیے کچھ نکات چاہیے تھے ۔

" ۔۔ہاں ! اچھا ہوا آپ یہاں ہیں خالہ جان ! اب سلمہ خالہ اور امی کی لڑائیوں کی بھی آپ کو صلح کرانی پڑے گی ۔۔" یہ  گرہ شارق نے لگائی جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا اور اس نے ان کی کچھ بات سن لی تھی ۔ اسماء اور سلمہ نے سہم کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔ کیا واقعی ان کے درمیان لڑائیاں ہوں گی ؟

" ۔۔اللہ نہ کرے لڑکے ! اوئی کیسی باتیں کررہا ہے ۔رشتوں کی خوبصورتی کے لیے  کچھ فارمولے بتارہی ہوں ۔ لڑائی تو اس وقت ہوگی جب یہ دونوں اپنی اولادوں  کے معاملات میں اپنے بچے کی ناحق حمایت کریں گی خدانخواستہ ۔۔یہ کوئی انڈین ڈرامہ نہیں ہے ۔ میری بہنیں ہرگز ایسا  نہیں کریں گی ان شاء اللہ ۔"  ان کی اس بات پر  ان دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا جیسے بچپن میں  ناراضگی کے بعد صلح کے وقت کرتی تھیں ۔ ماحول جذباتی ہوگیا تھا جس پر شارق نے منہ بنا کر کہا

" یعنی ہمارے گھر کوئی تفریح نہیں  ہوگی ۔۔۔" اس بات پر ماں نے گھورا تو خالہ نے چپل اٹھا لی ۔شارق کی شوخی پر وہ اسی طرح اسے دھمکاتی تھیں ۔

 دونوں  تینوں گھروں میں تیاریاں عروج پر تھی ۔ کبھی  اسماء اور شہلا مل کر خریداری کے لیے جاتیں تو اکثر اپنی اپنی بیٹیوں کے ساتھ جاتیں ۔ کبھی کبھار عظمیٰ آپا بھی ہمراہ ہوتیں ۔ اور لڑکیاں مل کر تو اکثر پروگرام بناتیں ۔یہ اور بات ہے کہ  اس میں خریداری خاک ہوتی !بس چیزیں اور ان کی قیمتیں  دیکھ دیکھ کر دل بہلاتیں اور  کسی ریسٹورنٹ میں غم غلط کرکے خالی ہاتھ واپس آتیں ۔

  ان ہی تیاریوں میں عظمیٰ آپا نے محسوس کیا  کہ بھائی  عارف بہت چپ چپ رہنے لگے ہیں ! ظاہر ہے اخراجات کے ساتھ ساتھ بیٹی کی جدائی بھی پریشان کر رہی ہے ۔ کئی دن دیکھنے کے بعد انہوں نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس دن رات کے کھانے کے بعد جب سب بکھر گئے تو انہوں نے شہلا سے گرین ٹی  پلانے کی فرمائش کی  اور عارف کے ساتھ ٹیرس میں آبیٹھیں ۔

ان کے بار بار پوچھنے پر عارف نے منہ نہ کھولا۔ بس آفس کی تھکن کہہ کر ٹال دیا ۔ لیکن بالآ خر  آپا نے   مسئلہ جان ہی لیا ۔

"۔۔۔ اصل میں آپا ! کراچی کے حالات تو آپ دیکھ ہی رہی ہیں ۔ عرفان نے اسلام آباد میں سیٹ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔  اگلے سال  میری ریٹائرمنٹ ہے  تو اس کا کہنا ہے کہ آپ سب ختم کرکے وہیں آجائیں ۔ جبران کا داخلہ بھی وہی یونیورسٹی میں کرادیتے ہیں ۔ کہنا بہت آسان ہے لیکن نئے سرے سے زندگی شروع کرنے لیے پیسہ چاہیے ۔۔۔"

آپا سارا مسئلہ سمجھ گئیں ۔۔۔" تو گھر بیچ دو ۔۔"

" نہیں آپا ! اس گھر میں سب کا حصہ ہے میں کس طرح فیصلہ کرسکتا ہوں ۔۔۔"   عارف نے بے چینی سے کہا۔ عظمیٰ سوچ میں پڑ گئیں  اور کچھ وقفے کے بعد بولیں   " اچھا اس پر بات کرتے ہیں ! "

اگلے دن انہوں نے عارف سے بات کی  "  دیکھو عارف! یہ مکان ہم چاروں کی وراثت ہے ۔ آصف بھائی تو اس سے بہت پہلے دست بردار ہوچکے ہیں ۔ مجھے تو تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے باقی اسماء سے بات ہوئی ہے ۔اس کا حصہ اس کو دے دیا جائے گا ۔ ظفر کا اپنا مکان کرایہ پر ہے ۔وہ اسے خالی کروا کر اس  میں منتقل ہوجائیں گے ۔لہذا تم اسے فروخت کرکے یکسو ہوجاؤ  ۔۔" 

عظمی آپا عمومی خواتین میں سے نہیں تھیں جو جذباتی طور پر  ہر قیمت پر ایک گھر میں رہنے پر بضد ہوں لیکن خود عارف کے لیے  اس مکان سے جذباتی وابستگی تھی ۔ ان کے والد نے یہ پلاٹ خریدا تو وہ زیر تعلیم تھے ۔ والد کے ساتھ  ساتھ اس ویرانے میں "  آشیانہ "کی تعمیر میں شریک رہے کیونکہ بڑے بھائی تو باہر جاچکے تھے ۔  یہاں کے چپے چپے پر والدین کی یادیں تھیں ۔یہیں وہ تعلیم یافتہ ہوکر برسرروزگار ہوئے ۔ یہیں شادی ہوئی اور بچے چھوٹے سے بڑے ہوئے ۔ یہیں سے والدین کے جنازے اٹھے ۔ والد نے انتقال سے چند ماہ پہلے یہ مکان عارف کے نام کردیا تھا  اس تاکید کے ساتھ کہ  سب یہاں مل کر رہیں ۔ چنانچہ اسماء  بھی یہیں نچلی منزل پر آباد تھی ۔ بہرحال آپا کے  مشورے پر وہ اس  کو بیچنے پر راضی ہوگئے ۔ انہوں نے عرفان کو اس کی اطلاع دی تو وہ خوشی سے نہال ہوگیا ۔ تو یہ طے ہو اکہ شادیوں سے فراغت پاتے ہی مکان کی فروخت کے منصوبے پر کام ہوگا ۔

شادی میں محض ایک مہینہ ہی رہ گیا تھا ۔ہبہ اور ماہا کی شادی میں ایک ہفتہ کا فرق تھا ۔ یاسر کے پاکستان پہنچتے ہی عرفان بھی اچانک چھٹی لے کر آگیا ۔ شادی کا گھر تھا ۔ہر وقت  قہقہے اور گہماگہمی تھی مگر ایک عجیب سی آزردگی تھی جس نے گھر کے بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ ۔کیا  ہم اس  گھر میں گزارے خوشگوار لمحات  کو یہیں دفن کردیں گے؟  اور جب سے بچوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی کچھ نہ کچھ  بے چینی محسوس کررہے تھے ۔ لڑکیاں توخیر  رخصتی کے خیال سے بھی  افسردہ تھیں لیکن لڑکے بھی  مطمئن نہ تھے لیکن بہرحال فیصلہ ہوچکا تھا اور منصوبے پر  کچھ نہ کچھ کاروائی بھی شروع ہوچکی تھی ۔  رات کو خوب رجگے ہوتے ۔ اسرا ء بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ آجاتی تھی ۔ خوب ہنسی مذاق میں وقت گزر رہا تھا۔

ہبہ کی شادی میں  چند دن تھے ۔ حسب معمول سب لاؤنج میں جمع ہوکر خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔اچانک عرفان نے  سب کو متوجہ کیا

"۔۔۔۔آپ سب کو علم ہوگا کہ  ابو نے  آشیانہ  بیچنے کا فیصلہ ہم سب کی رضامندی سے کیا ہے ۔۔۔۔" سب سناٹے میں اپنی دھڑکن کی آواز سن رہے تھے۔کچھ جذباتی لوگ آہستہ آہستہ سسک بھی رہے تھے ۔

" کیا ہم اس گھر کے در و دیوار کو بھول سکتے ہیں جہاں ہمارے بچپن کے نشانات موجود ہیں ! دادا دادی کے لگائے ہوئے پودے درخت بن کر پھل دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔" اس کی آواز گھٹنے لگی تھی    " مجھے  جب بھی گھر یاد آتا ہے میں آجاتا ہوں لیکن اگر یہ گھر نہیں ہوگا  تو ہم کس  طرح یہاں آسکیں گے ؟ ۔۔۔"

" ۔۔صحیح کہہ رہے ہو عرفان ! "  یاسر نے کہا                                                   " مجھے  بھی جب  گھرکی  یاد آتی ہےتو میں ویڈیو کال پر اس کا نظارہ کرلیتا ہوں ۔۔"

" ۔۔اور جب میں آسٹریلیا چلا جاؤں گا تو میں بھی اسے یاد کروں گا ۔۔" شارق کہتے کہتے رو پڑا ۔ پنچھی خود اڑنے کو تیار ہو لیکن اپنے گھونسلے کو مٹتا نہیں دیکھ سکتا ! صبا اور جبران نے حیرت سے شارق کو دیکھا ۔ وہ تو ایک ایک دن گن رہا تھا کہ کب وہ فارغ ہو اور پرواز کرجائے !

" بس ٹھیک ہے ! گھر نہیں بکے گا ۔ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں رہائش پذیر ہوجائیں یہ گھر  سلامت رہے گا ۔۔" عرفان نے گویا اعلان کیا تو سب نے نعرہ لگا کر اس کی تائید کی ۔

عظمیٰ آپا نے خوشی سے بچوں کی طرف دیکھا  ' میں تو اسلام آباد جانے پر بھی خوش تھی لیکن یہ بھی مناسب فیصلہ ہے ۔ ہوسکتا ہے بچو! کراچی کے حالات بھی درست ہوجائیں ۔ نلوں میں پانی ، چولہوں میں گیس اور تاروں میں بجلی آجائے اور سڑکیں ۔۔"  

"   ۔۔۔او ر K4   منصوبہ مکمل ہوجائے ۔ کیوں پھپو ! ۔"  یہ جبران تھا اسلام آباد میں پڑھائی کے لیے تیار لیکن گھر کی انسیت سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 


جمعرات، 4 جون، 2026

 


My Permanent Address

Filling the voucher I stuck at the column…. your permanent address……. Where is it? Stop writing and stuck in deep thoughts. My ultimate destination is paradise!!!! I exclaimed!! Not on the earth but on the sky! The JANNAH! The best resort! Nobody imagined it! From where our father ADAM came! Feeling joy! But how can be reached to my ancestral home?? What are the basic requirements?

Firstly passport! ALAHMDO LILIALLAHY being born in a Muslim family I got KALIMAH which is the passport to enter in the JANNAH! And I renewed it after getting true sense of being Muslim. But as we know only passport is not enough for travelling to another state. I have to fill many documents, submit NOC’s, being vaccinated etc… then I would be gotten visa for JANNAH!!! So,firstly I have an exam of IBADAH!

I looked my certificates, physically appeared in all basic subjects SALAH SAUM ZAKAH and HAJJ but with poor grades! Me desperate but thinking the pleasures of having compensation by ALLAH who has promised to handle it with Himself I hope to be get cleared, it is up to HIM now!

Then I looked on my capital i.e. emotions, Zikr Shukr, Sabr, good intention etc. ….. Low balance… very little amount exhibited! Disappointment me! I try to collect my all Duas intentionally or intentionally submitted to ALLAH and got hopeful to be sufficient amount.

Medical clearance is a must of travelling. Now I have to submit NOC from my relatives. Oh My ALLAH this is very difficult. No body agrees to clear my dues! My parents , my siblings , my friends , my colleagues my neighbors nobody is satisfy with me. So horrible!!

Remembered, how many times I didn’t obey my parents, misbehave with my siblings and cousins! Why I was jealous with my friends/colleagues? How many times neighbors were annoyed by me? How rude I was with elders, never sympathy with younger, needy and low profile community. Oh! My file hung! Don’t get visa to JANNAH! No ACCESS!!

I become crazy when my medical report is presented, showing signs of many illness, injurious diseases epidemic hypocrisy boosting others selfishness not being contented. Only vaccination is not enough I must have a treatment. My application is rejected!!

   Desperately passing days, till the month of Sha’baan. This is the month for the preparation of Ramadan, the holy month! With the advent of this month there was hoped to move my file. Feeling this motivated me!

First ten days for Rehmat, then Maghfrat followed by free from hell. I must try to gain my balance with Zikr and improve my result by Nawafils and Tahjjud, being more close to Him! May He please! It may leads to success because it multiply more than 70 time during this time.

Side by side, efforts could be made to restore my relationship with my kin’s. By visiting and begging pardon to satisfy them. So that to speed my file. Some were gifted by me, who have passed or away were prayed for better destination,sharing bounties with low profile communities ,participating in gathering which guide towards Allah’s Will!

Full of opportunities days and night are being passed.

The light which shows right path to choose is in the reach of everybody in these days. . Those who follow the instruction determined in Quran are really successful. After having this light I must get approval to Jannah! May be this could be my last chance!

O’Allah helps me to do so, because without YOUR Will, nobody can stay in his ancestral home!!!

                                                

                                     FARHAT TAHIR

                                           

اتوار، 5 اپریل، 2026

Now Or Never !

 





یا قوم ! معاشرہ ہو یا ملک کبھی نہ کبھی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہوتا ہےہ  فرد ہو

*ابھی نہیں تو کبھی نہیں*  کے عنوان سے چوہدری رحمت نے 1933ء میں ایک کتابچہ تحریر فرمایا تھا جس میں مسلمانان ہند کے لیے علیحدہ مملکت کی ضرورت بیان کی تھی۔ محض 7 سال بعد 1940ء میں  یہ مطالبہ ایک قرارداد کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر اگلے 7 سال بعد 1947ء میں پاکستان کی شکل نقشے پر نمودار ہوجاتی ہے ۔

بابائے قوم نے اتنے کم عرصے میں یہ کارنامہ انجام دیا جس پر تاریخ دان حیران ہیں ۔۔بظاہر تو اپنی ڈھلتی عمر کی وجہ قائد نے عجلت سے کام لیا لیکن اصل وجہ ان کی بیماری تھی جسے انہوں نے اپنے مخالفین سے چھپا کر انہیں تاخیری حربے سے باز رکھا ۔ 

اپنی تاریخ کے اس سنہرے باب کو اس وقت بھی دہرانے کی اشد ضرورت ہے۔

 مہنگے قرض کی اتنے کم وقت میں ادائیگی ایک چیلنج ہے لیکن حکومت کا یہ فیصلہ باوقار ہے۔ 

ہم اپنا کھلا دشمن ہندوستان کو سمجھتے ہیں لیکن کچھ آستین کے سانپ ہیں جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں اور اس قرض کی مار سے ہمیں کنٹرول کرتے رہے ہیں ان سے چھٹکارے کا وقت ابھی اور اسی وقت ہے 

اس کے علاوہ ان حکمرانوں کا احتساب بھی ضروری ہے جو اس قرض کی بنیاد بنے۔ سی پیک روک کر ادھورے منصوبوں کی ادائیگی کی بدولت قرض لیے گئے جو ہمارے پاؤں کی زنجیر بنتے رہے ۔ آئی ایم ایف کی کاسہ گدائی سے موقع ملنے کے باوجود چھٹکارا نہ لیا گیا ۔بے وقوفانہ مقدمات کے بجائے ان فیصلوں پر احتساب ہونا چاہیے!

ہم حکومت سے تو مطالبات کرتے رہتے ہیں اور اس کے کرنے کے کام یاد دلاتے رہتے ہیں لیکن بحیثیت فرد اور معاشرتی ذمہ دار ہمیں بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔بلاوجہ کے اخراجات کے بجائے مثبت اور صحت مند معاشی ترقی ضروری ہے ۔

ہماری گلیوں محلوں میں کچرے کے ڈھیر ہیں لیکن ہر گھر کے آگے بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی ہیں۔۔سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں لیکن ان پر رش لگا ہے ۔شاپنگ سنٹرز میں کسی ایک سوٹ کے لیے جھگڑے ہورہے ہیں جو کسی ماڈل نے پہنا ہو! تقریبات کا جمعہ بازار ہے ۔سادگی تو منہ چھپائے صرف کتب میں ہی نظر آتی ہے۔ 

وقت کے ساتھ کھلواڑ ایک عمومی سی بات ہے ۔سورج ڈھلنے کے بعد کام شروع کرکے مصنوعی روشنیوں  کا استعمال ایک خطرناک علامت ہے ۔جو قدرتی وسائل اور صحت دونوں کے ساتھ ظلم ہے اور جس کا جواب ہمیں نہ صرف آخرت میں دینا ہے بلکہ اس کے اثرات ہمیں دنیا میں بھی نظر آتے ہیں۔

المختصر انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا ۔۔

مہنگائی اور جنگ کے بادل ہمیں سدھرنے کا موقع دے رہے ہیں۔۔

ابھی اور اسی وقت فیصلہ کریں ۔۔ اپنی ذات سے لے کر معاشرے تک سدھار کا ایک نادر موقع ہے۔ معاشرت ہو یا معیشت یہ سب ایک قوی فیصلے کا منتظر ہے !  

 





پیر، 10 نومبر، 2025

کوئی تو چارہ گر بنے !

 


کوئی تو چارہ گر بنے !

''ایک چھوٹے سے جراثیم کا تصور  بھی نہیں کیا ہوگا جس سے  شرح اموات  کا امکان 26 ٪  تک پہنچ جائے ،  یا پھر ایسی صورت حال کہ جس میں موت کا تناسب  15 سگریٹ روزانہ پینے والے فرد جتنا ہوجائے!  صحت کے حوالے سے ایک بحرانی کیفیت کا منظر پیدا ہوجائے   جس  کا تقابل کرونا سے پیدا شدہ ہنگامی صورت حال  سے بخوبی کیا جاسکتا ہے ! ''

عزیز قارئین !  یہ اوون جونز نامی نوجوان    برطانوی کے  بلاگ کا ابتدائی حصہ ہے  جو فروری  2020ء کے پہلے ہفتے میں دی گارجین میں شائع ہوا۔( خیال رہےکہ اس وقت کرونا کی ہلاکت خیزی محض چین تک  محدود تھی ۔یعنی  انسانی زندگی کو درپیش جس خطرے کا جائزہ لیا جا رہا ہے وہ کرونا سے پہلےکا  ہے !)

 بلاگر انکشاف کرتا ہے کہ ''۔۔۔   عوامی سطح پر صحت کے اتنے بڑے بحران کے متاثرہ افراد کی تعداد الزائمر اور ڈیمنشیا سےبھی   دگنی ہوسکتی ہے ۔ اس مرض کا نام ہے تنہائی ۔۔۔ بیس لاکھ سے زیادہ بالغ افراد  جو دائمی تنہائی کا شکارہیں ۔اگرچہ اس میں بڑی تعداد برطانوی معمر شہریوں  کی ہے مگر نوجوان اس سے بہت زیادہ متاثرہیں ۔انسانی جبلت ہے کہ وہ اپنے ہم نفسوں سے جڑا رہنا چاہتا ہے اورجس میں کمی کے باعث جسمانی اور ذہنی امراض کا شکار ہوجاتا ہے ۔ اس وقت ہمارا معاشرہ  ٹکڑوں میں بٹا اپنے حصار میں گم  بالکل اسی طرح ہے جیسے صنعتی انقلاب کے خاتمے  پر تھا ۔"

"  بے شک اس زمانے میں تنہائی کے بر خلاف  گھٹن اور  ایک ہجوم انبوہ طاری تھا ۔ اس وقت کاروبار زندگی کا زیادہ تر انحصار کان کنی، شپ یارڈ یا کارخانوں پر منحصر تھا ۔ افراد کار کی زیادتی کے باعث خصوصا نوجوانوں نے پرائیویٹ کاروباری اداروں کی طرف رجوع کیا ظاہر ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی کمیونٹی سے باہر نکلے ۔ہم میں سے  تین چوتھائی افراد کا خیال ہے کہ اپنے  پڑوسیوں کو جاننا بہتر ہے لیکن صورت حال یہ ہے کہ 73 ٪ اپنے پڑوسیوں کے  نام تک نہیں جانتے ۔ ہم زیادہ سے زیادہ تنہا رہنا پسند کرتے ہیں  اور جیسا کہ 28٪ گھر سے بیٹھ کر کام کرنا پسند کرتے ہیں بلاشبہ یہ بات مزید تنہائی کا باعث بن رہی ہے  "( خیال رہے کہ یہ تحریر کرونا سے سال بھر پہلے کی ہے ! )

"۔۔۔ہمارے  مجتمع ہونے کی جگہیں سکڑتی جا رہی ہیں ۔1970ء کے عشرے میں اصحاب کے 4000  سے زائد کلب موجود تھے اب محض 1300 باقی ہیں ۔ 21 ویں صدی کے اغاز سے ہی ایک تہائی شراب خانے بند ہوچکے ہیں ۔ رات گئے تک جاری  زندگی کے ہنگامے ختم ہوچکے ہیں ۔ 2018 ء کی رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک نائٹ کلب بند ہوچکا ہے ۔ سینکڑوں یوتھ کلب ختم ہونے کے قریب ہیں  اور 800 کے قریب کتب خانے  تحلیل ہوچکے ہیں ۔ گویا 2010ء کے بعد کاعشرہ  حکومتی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشرتی نظام کے لیے کلہاڑی کی ضرب ثابت ہورہا ہے ۔ دینی رحجان کے منکر افراد برطانیہ میں مذہبی رسومات کے زوال کو خوژ آئند کہیں گے لیکن چرچز میں کم حاضری سے ہفتہ وار گفت و شنید کے مواقع بھی کم ہوگئے ہیں ۔۔۔""

 یہاں پر یہ نوجوان بلاگر سوال  اٹھاتا ہے کہ  "  کیا سماجی روابط کا حل ناگزیر اور ناقابل واپسی ہے؟  "

   اس کےجواب میں وہ ایک منظر بیان کرتا ہے جو اس نے مقامی کلب میں دیکھا           " 80 سال کی عمر کے افراد اپنے سے 6 دہائی چھوٹی عمر کی خواتین سے محو گفتگو ہیں ۔۔۔۔یہ " خاندان کی دیکھ بھال "  Family Care )) "   نامی ایک تنظیم کا تجویز کردہ خیال ہے ۔ یہ اس بات کا ابتدائیہ ہے کہ  شہری علاقوں میں مقامی بوڑھوں اور نوجوان کاروباری افراد کے درمیان باہمی تعلقات ہوں ۔یہ موقع ایک پب میں فراہم کیا جارہا ہے جہاں فری ڈرنک پیش کیا جاتا ہے ۔۔"

 وہ خود اپنا تجربہ بیان کرتا ہے       " ۔۔۔میں نے خود ایک ایک ایسی خاتون سے گپ شپ کی جو 1939ء کی پیدائش تھی اور جس نے 60ء کی دہائی میں یکساں شرح اجرت کی جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ ۔ اسی طرح ایک خاتون جس نے اپنی بیمار ماں کی تیمار داری کئی سال تک تنہا رہ کر کی تھی اب خوف زدہ ہے کہ بڑھاپے میں اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں مل سکے گا ۔۔۔"  بلاگر کے خیال میں   دو نسلوں کے درمیان فرق اور فاصلوں کو کچھ کوششوں سے دور کیا جا سکتا ہے ۔

ایک 26 سالہ رضاکار اینی  کا کہنا ہے کہ  "  میرے خیال میں تنہا ہونا  lonely  اور تنہا کردینا   isolation  دو مختلف چیزیں ہیں ۔ بہت سے  نوجوان افراد اپنے معاملات زندگی میں مصروف ہوکر تنہا ہوجاتے ہیں جبکہ معمر افراد  تنہا کردیے جاتے ہیں ۔ ان کی سماجی حیثیت ختم ہوچکی ہے ۔ ان کے ارد گرد نہ خاندان ہے اور نہ دوست ۔۔"

 بلاگر کا کہنا ہے کہ " یہاں کچھ ایسے ادارے وجود پاچکے ہیں جو  سماجی روابط  اور اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ وہ کچھ گائیکی کے گروپ بناتے ہیں جن میں کچھ گلوکار اور کچھ نغمات کی تحریر اور ترتیب کا کام کرتے ہیں ۔ کچھ گروپس معمر اور نوجوان افراد یکساں تعداد میں ملاکر بناتے ہیں جس میں مقامی سفید فام لندن کے پرانی رہائشی سے لے کر نقل مکانی کرنے والوں کی پہلی نسل شامل ہے ۔ "

 "۔۔  Family Care  کا خیال الیکس اسمتھ نامی ایک سابق مزدور رہنما کا ہے جو ایک معمر فرد فریڈ سے انتخابی مہم کے سلسلے میں ملا ۔ فریڈ نے آج تک کوئی  انتخابی معرکہ نہیں چھوڑا تھا  لیکن گھر میں محصور ہونے کی وجہ سے اب وہ پولنگ اسٹیشن پہنچنے سے قاصر تھا  چنانچہ الیکس فریڈ کو ووٹ ڈلوانے لے گیا ۔ فریڈ کے لیے نہایت خوشگوار لمحہ تھا ۔ اس سماجی رابطے نے سوشل میڈیا کے اس دور میں تہلکہ مچا دیا ۔ اس نیٹ ورک نے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں ۔  اس کمیونیٹی نے یہ بات دہرائ کہ   " تنہائی ناقابل برداشت ہے ۔ ہم سب کو دوسروں سے منسلک رہنے کی ضرورت ہے جو سماجی طور پر ہم سے چھن چکی ہے ۔علیحدہ علیحدہ ٹکڑیوں میں بٹ کر رہنا نہ صرف ایک غمناک تاثر ہے بلکہ ماتم کناں ہے کہ یہ ایک مہلک مرض بن کر سامنے آتا ہے ۔ تنہائی ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کو تباہ کرنے والی چیز ہے جو رفتہ رفتہ  موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہے ۔ لیکن شکر ہے کہ ہم اس سے کسی نہ کسی  طرح صحت یاب ہوسکتے ہیں ! بس  ہمیں صرف قوت ارادی کی  ضرورت ہے ۔۔۔"

 عزیز قارئین !

 یہ مضمون  میں نے فروری 2020ء میں  پڑھا تو اس کے حوالے سے اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہوئے اس فکر کو مفید پایا ۔ زیر مطالعہ مضمون  کاابتدائی حصہ جبھی لکھاتھا  لیکن اس کے فورا بعد کرونا کا زمانہ آگیا جس میں آئسولیشن ہی علاج سمجھا گیا تو اس مضمون کی افادیت اتنی موثر نظر نہیں آئی لیکن بہرحال یہ میرے ڈیسک ٹاپ میں محفوظ رہا اور آج 5  سال بعد  دوبارہ دیکھا تو  بعد از کرونا کے زمانے میں اس مسئلے کی شدت میں اضافہ پایا ۔ اب آن لائن کاروبار زندگی نے سماجی روابط کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔  ایک باپ بیٹے کا مکالمہ ذہن میں لائیں  ! جس میں  بیٹا اپنے باپ کو بنک جاکر رقم نکلوانے کو وقت کا ضیاع سمجھتا ہے لیکن باپ اس کو یہ کہہ کر خاموش رہنے پر مجبور کردیتا ہے کہ اس طرح میری کچھ لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔واقعی اس نظریہ سے دیکھا جائے تو آن لائن منتقلی رقم میں گھر بیٹھے منٹ بھرمیں کام ہوجاتا ہے لیکن فرد سے فرد کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے ۔

 شہری آبادیوں کے انخلا سے ہمارا سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہے ۔ بظاہر ہماری آبادیاں   گنجان  نظر آتی ہیں لیکن تنہائی کا مسئلہ یہاں بھی موجود ہے  ۔ ہمارا خاندانی نظام کسی حد تک محفوظ ہے ،  معاشرتی اور سماجی  ڈھانچے بھی نظر آتے ہیں   کیونکہ مذہبی تعلیمات بھی اس طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن ان سب کے باوجود ایک ذہنی و سماجی تنہائی کا عنصر موجود ہے ۔ جس کے لیے فکر مندی ہی نہیں بلکہ درستگی کی اشد ضرور ت ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحت طاہر ، کراچی


جمعہ، 22 اگست، 2025

ہم نہ باز آئیں گے !

ہم نہ باز آئیں گے !


 

دور طالبعلمی میں لیکچر کے آخر میں ایک نہ ایک پڑھاکو طالب علم کوئی سوال پوچھ لیتا اس کے جواب میں اساتذہ مزید کچھ وقت لے لیتے جس کے نتیجے میں بقیہ طالب علم احتراما تو خاموش رہتے لیکن دل ہی دل میں پیچ وتاب کھاتے اس کو گھورنے لگتے اور بعد میں اس کو خوب لتاڑتے! یہ بات ہمیں کیوں یاد آئ ! 

جب علاقے کی میٹنگ میں سہ ماہی اور رمضان کی منصوبہ بندی کے سوال پر ہم نے رمضان کے حوالے سے پارک میں میلہ/ بازار لگانے کی فرمائش کر ڈالی۔ اب پتہ نہیں  یہ ہمارا      رعب تھا یا پھر چنے چاٹ کے مزے کا کہ سب خاموش تھے بالکل اسی طرح جیسے کلاس میں ہوتا تھا لیکن بہرحال سب دل میں سوچ رہے ہوں گے شعبان میں رمضان/ عید کی تیاری ہے ، استقبال رمضان کرنے ہیں! دورہ قرآن اور ہدیہ قرآن کی مہم ہے ! راشن کی تقسیم کا معاملہ ہوگا ۔اس میں بازار کی کیا گنجائش ہے ؟   

کچھ دن بعد ناظمہ علاقہ نے مردانہ نظم سے بات کر کے منظوری دے دی اس ترمیم کے ساتھ کہ پارک کے بجائے عیدگاہ گراونڈ میں بازار لگایا جائے کیونکہ پارک کی ہئیت اونچی نیچی ہے !  ہمیں جگہ کی تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں تھا البتہ ساتھیوں کے رمضان کے ساتھ بازار کے لفظ پر کچھ تحفظات تھے! خیر ایک علمی اور ادبی بحث کے بعد یہ ہی طے ہوگیا کہ ہمارے بازار  خدانخواستہ کوئ بے حیائی اور بے ایمانی کا حصہ تھوڑی بنیں گے بلکہ تجارت کے اچھے پہلو کو اجاگر کریں گے ان شاءاللہ!

ہماری فرمائش اور مجوزہ بازار کے درمیان مہینہ بھر کا وقت تھا ۔۔لہذا پروگرام کا منصوبہ بنا کر ہم سکون سے بیٹھے تھے ! نہیں بھئی اطمینان تو ہماری زندگیوں سے مفقود ہے۔ امریکہ سے ہماری کزن کا خاندان کسی شادی میں شرکت کے لیے کراچی آپہنچا تھا ۔جن کے ساتھ ملاقاتیں ، دعوت ، خریداری تحائف کا لیں دین ہو رہا تھا اور ان ساری مصروفیات کے دوران ذہن میں اور موبائل کے ذریعے بازار کی تیاری  بھی جاری تھی ۔۔۔  

اس بازار کی نگران ہماری کونسلر نجیبہ نذیر کی ہدایت پر متعلقہ افراد کا واٹس اپ گروپ بنادیا تھا جس میں مشورے اور تجاویز کا سلسلہ تو ہماری کشور ظفر بہن گوہر نسرین کی مشاورت سے اسٹال کی  بکنگ کا فریضہ ذمہ داری سے ادا کر رہی تھیں۔  آئی ٹی کی ہماری پیاری حبیبہ مسلسل بازار کا پوسٹر بہتر سے بہتر بنا رہی تھی   

لیکن ان تمام کے باوجود سطح پر کچھ نمودار نہیں تھا ! اس پر دو قسم کے تبصرے سننے کو ملے :

بھئی آپ کے بازار کی کوئی خبر ظاہر نہیں ہورہی ۔۔۔کوئی بینر وینر لگائیں نا تشہیر کے لیے!" "

دوسری طرف جنہیں یہ سب کرنا کروانا تھا ، ان کے مطابق ابھی تو بہت دن ہیں !ہوجائے گا ان شاءاللہ اور ہم نے  بھی سب کچھ اللہ کے حوالے کیا ہوا تھا۔  

امریکیوں کو  واپس روانہ کیا ۔ساتھ ہی بہن کو شناختی کارڈ کی تجدید کروائی تو ایک روزہ تربیت گاہ سامنے تھی ! اور ہم ذاتی اور قومی مزاج کے مطابق سامنے کی چیز پر ہی توجہ مرکوز کرتے ہیں  لہذا یہ ہی کیا ! ہاں البتہ بازار کے دعوت نامے جس میں اسٹالز کی بکنگ کی اطلاعات تھیں ۔فوٹو کاپی کرواکر شرکاء میں تقسیم کردیے تھے!

اور پھر فروری کے آغاز میں  عشرہ کشمیر  منانے کا اعلان ہوا جس میں ہمیں بھی مقدور بھر حصہ لینا تھا ۔۔پوسٹر بناکر کشمیر واک میں شریک ہوئے اور اپنے جذبات کو مہمیز کیا ! ساتھ ساتھ استقبال رمضان کے پروگرام بھی شروع ہوچکے تھے۔



ہمیں یوٹرن لینا ہے !" 

 ان سارے تھکاوٹ بھرے دنوں میں ہمیں بازار کا منصوبہ ملتوی کرنا مناسب لگا ۔۔یہ بات سنتے ہی نجیبہ بہن ناظمہ علاقہ صائمہ خورشید کے ہمراہ ہمارے گھر آپہنچیں کہ ہمیں یوٹرن لینے سے بچاسکیں !

چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بازار کی تمام تفصیلات اور جزئیات طے کر لی گئیں ۔ جہان جہاں رابطے کرنے تھے وہ بھی فوری کرلیے کہ تیاری میں تیزی آجائے۔ ہم نے بھی فلائر کا ڈیزائن پرنٹر کو فوری بھیجا جو رات 11 بجے ہمارے ہاتھوں میں تھا ۔تقسیم کے لیے جمیعت کے  بچے کو  اگلے دن  طلب کیا جنہوں نے دو دن میں یہ کام کیا۔ کشمیر ڈے کی چھٹی کے بعد  بازار کے انعقاد میں محض دو دن بچے تھے ۔۔ 

علاقے کی ٹیم نے فوری طور پر بازار کی مجوزہ جگہ کا دورہ کرنے کے بعد رپورٹ دی کہ اس گراونڈ میں تو جھاڑیاں،  گندگی اور گٹر کا پانی ہے !۔۔یہ کل کے دن میں کیسے صاف  ہوسکے گا ؟ اور صفائی بھی اجازت نامہ سے مشروط ہے جو ابھی تک نہیں مل سکا ہے

  ذمہ داران تو مردانہ نظم سے رابطے میں جت گئے جبکہ ہم نجیبہ کے ہاتھ کے بنے  ڈیٹ پائ  اور دہی بڑے کھا کر کشمیری چائے سے لطف اندوز ہونے لگے  


 

 "جان  جائے گی اور کیا ہوگا!" 

کسی شاعر کا کلام ہمارے ذہن میں گونجا !  اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے تک اطمینان کی  غنودگی تو لے لیں۔۔۔نہیں جی ! یہ کیسے ممکن ہے ؟ اسی دن شام 4 بجے کشور ظفر کے گھر تمام منتظمین کے ساتھ انتظامی امور کو حتمی شکل دینے کے لیے نشست رکھی ہے ۔

کس قدر ذہنی دباؤ کے تحت ہم اس نشست میں پہنچے اللہ ہی جانتا ہے!

 اور جیسے ہی وہاں پہنچے تو سلائ مشین مرمت کرنے والے کا فون آیا کہ میں آپ کے گیٹ پر مشین لے کر کھڑا ہوں ۔۔اف ! کل سے منتظر تھی اور ابھی بھی انتظار کر کے نکلی ہوں۔۔۔۔ ۔واپس جاکر اسے فارغ کرنا محال تھا کیونکہ ابھی تو ہماری سانسیں بھی بحال نہیں ہوئی تھیں!  خیر اے چینی کے عالم میں نماز عصر ادا کر کے جیسے ہی فارغ ہوئے فون پر خوش خبری ملی کہ اجازت مل گئی ہے اور اب صفائ ہورہی ہے    ۔



  پروگرام سو  !فی صد کنفرم ہے ان شاءاللہ 

نشست میں شریک ذمہ داران کے ساتھ انتظامات مکمل کیے اور ذمہ داریاں تفویض کیں۔۔۔پچھلے دو دن میں اسٹالز کی بکنگ خاصی زیادہ تھی ۔اس کا جائزہ لیا ۔بک اسٹال کے لیے کتب خریدنا تھیں۔ مکتبہ جانے کے لیے شہلا لقمان ہمراہ چلیں۔۔۔الحمدللہ دل کو یکسوئی ہوئی جب  کاموں کی ایک شکل سامنے آئی ۔۔ 

جمعہ کادن ! معمول کی قرآن کلاس تھی !  حیرت انگیز طور پر وہ بے چینی نہیں تھی جو امتحان سے ایک روز قبل ہوتی ہے 

 بلکہ ایک خوشگوار سے جذبات تھے !  مصروفیت کا سارا زور فون پر تھا ! چونکہ تشہیری پوسٹ میں سمیرا ابراہیم نے ہمارا نمبر برائے رابطہ دیا تھا لہذا اسٹالز کی بکنگ اور ادائیگی کے لیے سب ہمیں ہی فون کررہے تھے ۔خیر اپنا حدف مکمل ہوتے ہی ہم نے بکنگ ختم کردی  اور اطمینان سے سوگئے ۔۔

*8 فروری 2025 ء* 

آج بازار ڈے تھا لہذا وقت سے پہلے انتظامات کے حوالے سے پہنچنا تھا! 

  10 بجے جب ہم پہنچے تو اسٹالز لگ رہے تھے ۔۔رخسانہ جاوید ، شہلا لقمان بھی پہنچ گئی تھیں ۔آمنہ خاتون کا گھر تو سامنے ہی تھا جہاں سے کافی امداد مل رہی تھی ۔۔نگران نجیبہ نذیر بھی مدد گاروں کے ساتھ   آپہنچیں اور جنریٹر وغیرہ کے انتظام کی نگرانی کی ۔ کشور ظفر نے اسٹالز پر نمبر لگانے شروع کیے ۔فرحانہ ریاض بھی ساز و سامان کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔

دھوپ کی تمازت بتارہی تھی کہ آج گرم دن ہوگا  لہذا اسٹالز کے اوپر بھی ڈھانکنے کا انتظام کروایا ۔ساونڈ سسٹم لگایا گیا ۔

تھوڑی دیر میں ہی اسٹالز لگانے والوں کی آمد شروع ہوگئی ۔۔ ساتھ ہی ہمارے رضاکار بھی آنے لگے ۔۔سمیرا فاروقی اپنی بھانجی کے ساتھ کتب کارنر سجانے لگیں اور سمیرا ابراہیم اپنے پودوں کا اسٹال!!۔ س کے علاوہ *استقبالیہ* کے لیے مہرالنسا اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھیں۔ 

اس موقع پر کچھ نئے افراد جن سے مدد لینی تھی ان کی معذرت کے پیغامات آنے لگے۔ 

ان کے ذمے پوسٹرز بنا کر اسٹالز پر لگانے تھے ۔اب کیا کریں ؟ (اس موقع پر ٹین ایجرز کے استعمال میں آنے والے فقرے جو ہمیں بہت ناپسندیدہ لگتے ہیں خود بخود ذہن میں آنے لگے یعنی ٹوپی کروادی ! ۔۔۔۔۔۔)۔ 

خیر اب ہمیں اپنی بہن کا انتطار تھا جن سے اسٹیشنری منگوائی تھی۔۔۔وہ بھی آ پہنچیں۔تو جلدی جلدی پوسٹرز تیار کیے ۔۔

!یہاں ہمارے کارنرز کا بھی ذکر ہو ! 

*کڈز کارنر* اور *یوتھ کارنر* کی نگران روبی خان                    اپنی ٹیم کے ساتھ تھیں ۔

*ہیلتھ کارنر* کی نگران ڈاکٹر صدف نے نامساعد حالات کے باوجود اپنا اسٹال سیٹ کرلیا تھا اور کمک آنے تک اس کو سنبھالتی رہیں 

*غزہ/ کشمیر کارنر* کا زکر بہت ضروری ہے!  ماہین کسی فرمانبردار بچے کی طرح توقع سے بہتر کام کرتی ہیں ماشاءاللہ ! بڑی رونق تھی یہاں ! بچے یحیی سنوار کے آخری لمحات کی ادائیگی بہترین انداز میں کررہے تھے ! 




ایک اور فرمانبردار بچہ یعنی منیزہ بہت دور ہونے کے باوجود اپنے حصے کام کر رہی تھیں۔۔۔اپنے متبادل کے طور پراپنی بھانجی عکاشہ کو بھیجا تھا جو اپنے سخت شیڈول کے باوجود بچوں سمیت ذمہ داری نباہ رہی تھیں!

اب ظہر کا وقت ہوگیا تھا ۔اس وقت محفل جوبن پر آچکی تھی 

 عاتکہ بچوں کے ساتھ شریک ہوئیں ۔نمرہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار تھیں۔۔الخدمت کے اسٹال پر ناظمہ ابراہیم  اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ نائلہ حسینی بھی ہماری مدد کو موجود تھیں۔ رقیہ احسان بھی ایک اپنائیت کا ماحول بنائے ہوئے تھیں 

ساونڈ سسٹم کے بحال ہوتے ہی ہماری اناؤنسر اعلی طارق نے کاروائی شروع کردی ! دھوپ کی وجہ سے شرکاء کی آمد سستی کا شکار تھی ایسے میں مہمیز کرنے والے اعلانات یقینا لوگوں کو متوجہ کر رہے تھے ۔

یہاں یہ بات ہے کہ نہ اسٹیج تھا نہ اسکرین ! گویا رونق لگانے کا مکمل انحصار ہمارے آڈیو سسٹم میں تھا! نغمے،  ترانے ہر کان تک پہنچ کر اپنا پیغام پہنچا رہے تھے! 

2 بجے کے بعد شرکاء کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا َ

اتفاق سے استقبالیہ اور اس کے خیر مقدمی پوسٹرز لکھنے سے رہ گئے تھے  لیکن  مہر النسا نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں خوشگوار ماحول رکھتے ہوئے اس کمی کا احساس نہ ہونے دیا

افراد کار کی کمی کا سامنا ضرور نظر آیا۔۔اسی کا نتیجہ تھا کہ ہمیں بار بار اپنا قرطاس تبدیل کرنا پڑ  رہا تھا ! کبھی انتظامیہ تو کبھی نظم و ضبط تو کبھی صفائ تو کبھی خدمت !  !  

اور حد یہ تھی کہ نجیبہ نذیر جنہیں افتتاح کرنا تھا اپنے ہاتھوں سے میدان میں سے کچرہ سمیٹ رہی تھیں ۔۔۔

ان کے ساتھ کچھ اور ان کے ساتھ کچھ اور بچے بھی لگ گئے ۔اس سے پہلے  انہوں نے میدان کے بیچوں بیچ بہنے والے پانی کے اوپر تختے رکھ کر راستہ صاف کروایا تھا۔۔۔ایک ذمہ دار کی نگاہ کہاں تک جاتی ہے کوئی اندازہ  نہیں کرسکتا ! 

افراد کار کی کمی کی وجہ کیا تھی ؟ 

ضلع کا ایک پروگرام جس میں  منتطمین کی کافی تعداد کو ضروری شرکت کرنی تھی ۔۔جن میں افراح، سارہ ذیشان، ڈاکٹر اسما احمد، قرۃالعین کے علاوہ ہماری ٹاؤن کونسلر سعیدہ اشرف شامل تھیں

یہاں پر ناظمہ علاقہ  صائمہ خورشید کا زکر لازمی ہے جو ابتدا سے ہی اس  ایونٹ میں خاص دلچسپی سے شریک رہیں اور انتظامی امور کے سارے معاملات ان کے ذریعے ہی طے پارہے تھے ۔۔ان کی ٹیم خصوصا افسر سلطانہ جنہوں نے غزہ کارنر کے لیے پینا فلیکس تیار کروایا اور گوہر نسرین جو اسٹالز کی بکنگ میں مہارت رکھتی ہیں  انتہائی توجہ اور خوش دلی سے اس سر گرمی میں بھی اپنی مہارت دکھا تی رہیں !

3بجے کے بعد جب ضلع کے پروگرام کے شرکا یہاں شرکت کے لیے پہنچے تو رونق لگ گئی ۔۔اور اسی  وقت خواتین جوق درجوق شرکت کے لیے  داخل ہونے لگیں۔۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب کچھ ذمہ داریاں تبدیل ہوئیں اور ہمیں دوسرے علاقوں سے بھی کمک وصول ہوئی ۔ اسما احمد اور سارہ نے کڈز اور یوتھ کارنر بالترتیب  سنبھال لیا اور  استقبالیہ پر اب قرت العین معہ ساتھی نگران  تھیں جبکہ اناؤنسمنٹ کی ذمہ داری اسما نے سنبھال لی ۔

 ہیلتھ کارنر میں ڈاکٹر فائزہ اپنی ساتھی کے ساتھ آموجود ہوئیں۔۔ان کے لیے بہت تعریف  دل سے  بہت دعائیں نکلیں جب معلوم ہوا کہ  اپنے گھر منعقد بڑی دعوت کے باوجود اپنی ذمہ داری سنبھال رہی تھیں 

رونق عروج پر پہنچ چکی  تھی ۔۔خواتین خریداری بھی کر رہی تھیں اور لذیذ پکوان سے لطف اندوز بھی ہورہی تھیں۔۔۔ہم نے بھی قسم قسم کی چیزیں کھائیں اور کھلوائیں  ۔گول گپوں کی مارکیٹنگ بہت ا چھی تھی  ۔اس کے علاوہ حلیم،  آئس کریم ، قسم قسم کے سینڈوچز اور میکرونی، چھولے،دہی بڑے، حلیم ، پزا،شامی کباب ، بن کباب ،کھٹے آلو  ۔۔۔۔۔۔۔اور بہت کچھ !!

سعیدہ اشرف اپنے ساتھ بریانی اور گاجر کا حلوہ لائی تھیں۔۔جن لوگوں کو ملا ان کے مزے تھے اور جن تک نہیں پہنچ سکا وہ اس کی بابت پوچھتے پائے گئے 

   شام ڈھلی تو چائے بننے لگی ۔۔ہم اپنے ساتھیوں کو چائے پلوارہے تھے تو نجیبہ نے ہمیں  کشمیری چائے کا کپ ہاتھ میں تھمادیا۔۔۔ 

جیولری/ خوشبویات، ملبوسات ، ہوزری اور برتن وغیرہ کے اسٹالز بھی موجود تھے جہاں خواتین خوب دلچسپی لے رہی تھیں ہم نے بھی خریداری کی۔۔کچے راشن کا اسٹال بھی تھا جہاں سے ان کی فرمائش پر بیسن اور کھجور خریدی ۔

بچوں کی قوم بے انتہا خوش نظر آرہی تھی کیونکہ انہیں  بلاروک ٹوک  ادھر سے ادھر دوڑنے کی آزادی ملی ہوئی تھی  گویا پکنک کے مزے لے رہے تھے ۔۔مائیں بھی مطمئن تھیں کہ نہ تحفظ کا مسئلہ تھا نہ جگہ کی تنگی !! بچے اپنے اسٹال پر رنگ بھر رہے تھے ، کچھ  گیمز کھیل رہے تھے ۔۔اور پھر جب اسما نے نشانہ بازی کا گیم شروع کروایا تو بہت ہی جوش و خروش نظر آیا۔







ہماری ذمہ داریوں میں ایک اہم کام اس بازار میں  داخل ہونے والے مرد حضرات کو ادب کے ساتھ باہر کا راستہ دکھانا تھا ۔۔

ہاں البتہ ایک کو منع کرتے ہوئے ہمیں افسوس ہوا۔ محلے کی دو بچیاں جن کی والدہ انتقال کر چکی ہیں اپنے والد کے ساتھ شریک ہونا چاہتی تھیں ۔ہم نے ایک بچی کو گود میں لے کر دوسری کی انگلی پکڑ کر پورے بازار کی سیر کروائی ، دلچسپی کے  گیمز کروائے ۔کچھ خریداری ان کے ابو کی اجازت کے ساتھ ہی ہوئ ۔

والز آئس کریم والا اندر آنے پر بضد تھا اور عین دروازے پر کھڑا تھا ! کچھ بچوں نے اس سے آئس کریم لینا چاہی تو ہم نے انہیں اسٹال سے لینے پر راضی کیا اور والز والے کو ہٹنے کو کہا لیکن وہ اتنا ڈھیٹ تھا کہ آخر تک وہیں جما رہا!

اس بازار کا وقت 6 بجے تک تھا لیکن شرکاء کے اصرار پر اس کا وقت بڑھادیا گیا تھا لہذا اندھیرا ہونے کے باعث لائٹ کا اہتمام کروایا ۔۔۔بہرحال کھانے پینے کا سامان ختم ، سب تھک چکے تھے لہذا بازار سمیٹ دیا گیا ۔تھکن  بہت تھی لیکن ایونٹ کے انعقاد کی خوشی میں محسوس  رہی تھی! 

ہمیں کئی بار یاد آیا کہ پچھلے سال 8 فروری کو ہی اس جگہ کتنا بھونچال تھا ۔لوگ اپنے  ووٹ کاسٹ کرنے کو مارے مارے پھر رہے  تھے۔

یہاں ہمیں اپنے محلے کے بہت سے لوگ نظر آئے ۔کچھ ایسے بھی جن سے ملاقات کو بوجوہ عرصہ ہوگیا تھا۔۔ایک لڑکی جو دس سال پہلے ہمارے دورہ قرآن میں شریک ہوتی تھی ۔۔شادی کے بعد پہلی دفعہ اپنے بچے کے ساتھ بہت عقیدت سے ملی۔ کچھ بچوں کی خیریت ہم نے دریافت کی تو بولے" ہمیں مما نہیں لے جاتیں! "                              ہم نے بچوں اور اپنے درمیان رکاوٹ بننے پر ماوں سے شکوہ کیا۔ننھی عمارہ اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ فہرست بمعہ متباد ل مصنوعات کی فہرست تقسیم کرتی پھر رہی تھی ۔ بہت پیار آیا ! 

س روداد کو ختم کرنے سے پہلے کچھ اور بھی کہنا ہےا ! 

پچھلے سال جنوری 2024 ء میں بھی انتخابات سے پہلے بازار لگا تھا جس میں ہم نے بہن سروری قدیر کے ساتھ مل کر  اسٹال لگایا تھا! انہوں  نے پودے تیار کیے ہوئے تھے اور ہم نے اپنی سلائ کے نمونے رکھے تھے ۔۔دونوں چیزیں ہاتھوں ہاتھ گئیں ۔۔اس دفعہ سروری قدیر بہت یاد آئیں کیونکہ وہ ڈاکٹر کے مشورے کے باعث آرام کر رہی تھیں اور ہم ؟ 

ہمارے پاس اپنے کئی نمونے اسٹال کی زینت بننے کے لیے تیار تھے لیکن امریکی رشتہ داروں کو تحائف میں دے دیے گئے تھے ۔۔۔ ہم نے مزید نمونے تیار کرنے  کی ہمت کی ہوئی تھی لیکن سلائ مشین کی خرابی نے ہمارے ارادوں پر پانی پھیر دیا اور جب وہ بن کر آئ تو اتنا موقع نہیں تھا 

خیر زندگی رہی تو موقع بھی ملیں گے اور ہم نکال ہی لیں گے کچھ نہ کچھ موقع!  ! 

ہم نہ ہمت سے باز آئیں گے

جان جائے گی اور کیا ہوگا!

 

شعر میں *محبت* کو *ہمت* سے بدلنے پر شاعر سے معذرت 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔